ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / دہلی انتخابات میں مسلم ووٹروں کے اتحادکازبردست مظاہرہ، عام آدمی پارٹی کے پانچوں  مسلم امیدوارکامیاب

دہلی انتخابات میں مسلم ووٹروں کے اتحادکازبردست مظاہرہ، عام آدمی پارٹی کے پانچوں  مسلم امیدوارکامیاب

Wed, 12 Feb 2020 00:14:15    S.O. News Service

نئی دہلی،11/فروری(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) مسلم منھ بھرائی کا الزام جھیلنے والی کانگریس کو دہلی اسمبلی انتخابات میں برادری سے مایوسی ہی ہاتھ لگی ہے۔کانگریس نے دہلی اسمبلی انتخابات میں پانچ مسلم چہروں کو ٹکٹ دیا تھا، لیکن ان پانچوں امیدواروں کی ضمانت ضبط ہو گئی۔جب کہ عام آدمی پارٹی کے پانچوں مسلم امیدوارکامیاب ہوئے۔

سیلم پور سے دہلی میں کانگریس کے قدآور لیڈر چودھری متین احمد بھی ضمانت نہیں بچاپائے لیکن انہیں پارٹی کے تمام مسلم امیدواروں میں سب سے زیادہ ووٹ ملے ہیں۔ انہیں 15.61 فیصد ووٹ ملے ہیں۔2013 کے اسمبلی انتخابات میں متین احمدنے 46.52 فیصد ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی تھی۔

عام آدمی پارٹی(آپ) کے امیدوار مسعود علی خان کو12.99 فیصد ووٹ ملے تھے اور وہ چوتھے نمبر پر رہے تھے۔مگر2015 کے اسمبلی انتخابات میں کہانی پلٹ گئی تھی اور آپ کے محمد اشراق نے 51.26 فیصد ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی تھی اور کانگریس کے احمد تیسرے نمبر پر چلے گئے تھے اورانہیں 21.28 فیصد ووٹ ملے تھے. اس سیٹ سے بی جے پی کے سنجے جین 26.31 فیصد ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبرپر رہے تھے۔اس بار آپ کے عبدالرحمان 56.05 فیصد ووٹوں کے ساتھ جیتے ہیں۔

جنوبی دہلی کی اوکھلا اسمبلی سیٹ پر بھی مسلم سماج نے کانگریس کا ساتھ نہیں دیا۔ اس سیٹ سے 1993 سے 2008 تک کانگریس کے پرویز ہاشمی ممبر اسمبلی تھے اور 2009 میں اسمبلی سے استعفیٰ دے کر راجیہ سبھا چلے گئے تھے۔ اس کے بعد ہوئے ضمنی انتخابات میں آر جے ڈی کے ٹکٹ پر آصف محمد خان نے یہ سیٹ جیتی تھی لیکن وہ بعد میں وہ کانگریس میں آ گئے تھے اور 2013 کا الیکشن کانگریس کے ٹکٹ پر لڑاتھا۔انہوں نے 36.34 فیصد ووٹ حاصل کرکے جیت درج کی تھی۔ تب اس سیٹ سے آپ سے عرفان اللہ خان 17.05 فیصد ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے تھے۔

لیکن 2015 کے اسمبلی انتخابات میں آپ کے امانت اللہ خان نے 62.57 فیصد ووٹ حاصل کرکے جیت درج کی تھی اور کانگریس کے آصف محمد تیسرے نمبر پر چلے گئے تھے اور انہیں 12.08 فیصد ووٹ ملے تھے۔ اوکھلاسے دوسرے نمبر پر بی جے پی کے برہم سنگھ(23.84 فیصد ووٹ) رہے تھے۔اس بار کانگریس نے آصف کو ٹکٹ نہیں دے کرہاشمی پر انحصار کیا۔ہاشمی کو 2.6 فیصد ووٹ ملے ہیں، جبکہ بی جے پی کے سنگھ کو 21.97 فیصد ووٹ ملے ہیں۔امانت اللہ خان 72.49فی صد ووٹ حاصل کرکے جیتے ہیں۔

انھوں نے ستترہزارووٹ سے جیت حاصل کی ہے۔شاہین باغ کا علاقہ اوکھلا اسمبلی حلقہ میں ہی آتا ہے، جہاں تقریباََدوماہ سے شہریت قانون،مجوزہ قومی شہری رجسٹراور قومی آبادی رجسٹر کے خلاف خواتین سمیت کافی تعداد میں لوگ دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں۔بلی ماران سے 1993 سے 2015 تک کانگریس کے ممبر اسمبلی رہے اور شیلا دیکشت حکومت میں وزیر رہے ہارون یوسف نے 2013 میں 36.18 فیصد ووٹوں کے ساتھ سیٹ پر قبضہ کیا تھا۔اس سیٹ سے آپ کی فرحانہ انجم تیسرے نمبر پر رہی تھیں اورانہیں 14.76 فیصد ووٹ ملے تھے۔مگر2015 میں یوسف تیسرے نمبرپرکھسک گئے اور انہیں 13.80 فیصد ووٹ ملے تھے جبکہ بی ایس پی سے آپ میں آئے عمران حسین نے 59.71 فیصدووٹوں کے ساتھ کامیابی حاصل کی تھی۔عمران حسین دہلی حکومت میں وزیرہیں۔اس بار بھی کانگریس کے ٹکٹ پر قسمت آزما رہے یوسف کو 4.73 فیصد ووٹ ملے ہیں اور آپ کے حسین 64.65 فیصد ووٹ حاصل کرکے کامیاب ہوئے ہیں۔

بڑے پیمانے پر مسلم کمیونٹی کے آپ کے ساتھ جانے کی وجہ بی جے پی لیڈروں کی اشتعال انگیز بیان بازی مانی جا رہی ہے۔سماجی کارکن فہیم بیگ نے کہاہے کہ بی جے پی لیڈروں کی اشتعال انگیز بیان بازی سے آپ کے حق میں لوگ متحد ہوئے اور تمام لوگوں نے ترقی کے لیے ووٹ کیا۔اس میں مسلم بھی شامل ہیں۔انہوں نے کہاہے کہ یہ ٹیسٹ تھاکہ کیا عوام ترقی پرووٹ کرے گی یا ہندو مسلمان کے معاملے پر۔ لوگوں نے ترقی کا ساتھ دیا اور اس انتخاب میں کانگریس کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں تھا۔بی جے پی کے ماڈل ٹاؤن سے امیدوار کپل مشرا، بھاجپا ایم پی پرویش ورما اور مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر نے اشتعال انگیز بیان دیے تھے۔ الیکشن کمیشن نے ان پرکارروائی بھی کی تھی۔

مصطفی آباداسمبلی سیٹ 2008 میں حد بندی کے بعد وجود میں آئی تھی اور 2008 اور 2013 کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کے حسن احمد جیتے تھے۔حسن کو 2013 میں 38.24 فیصدووٹ ملے تھے اور آپ کے کپل 13.43 ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے تھے لیکن 2015 کے انتخابات میں تین مقابلے میں بی جے پی کے جگدیش پردھان سیٹ سے جیت گئے تھے۔گزشتہ اسمبلی انتخابات میں دوسرے نمبر پر رہے کانگریس کے حسن احمد کو 31.68 فیصد اور تیسرے مقام پر رہے آپ کے حاجی یونس کو 30.13 فیصد ووٹ ملے تھے اور وزیر کو 35.33 فیصد ووٹ ملے تھے۔لیکن اس بار مصطفی آباد سیٹ سے مسلم ووٹروں نے کانگریس کی حمایت نہیں کی۔ اس بار کانگریس نے حسن کے بیٹے علی مہدی کو ٹکٹ دیاہے اور انہیں محض 2.89 فیصدووٹ ملے ہیں۔ وہیں آپ کے یونس 53.2 فیصد ووٹ حاصل کرکے جیت گئے ہیں۔مٹیامحل سیٹ پر 1993 سے کبھی بھی کانگریس نہیں جیتی ہے۔یہاں سے مختلف جماعتوں کے ٹکٹ پر 2015 تک شعیب اقبال ہی جیتتے آئے ہیں۔لیکن کانگریس کو اتنے کم ووٹ کبھی نہیں ملے جتنے ہی اس بارملے ہیں۔

2013 میں کانگریس کے ٹکٹ پر الیکشن لڑے مرزا جاویدکو27.68 فیصد ووٹ ملے تھے۔وہیں، 2015 میں کانگریس کے ٹکٹ پر میدان میں اترے اقبال کو 26.75 فیصدووٹ ملے تھے اور آپ کے عاصم خان کو 59.23 فیصد ووٹ ملے تھے لیکن اس بار پھر سے میدان میں اترے کانگریس کے مرزا جاوید کو 3.85 فیصد ووٹ ملے ہیں۔اس بار اقبال آپ کے ٹکٹ پر میدان میں ہیں اور انہیں 75.96 فیصد ووٹ ملے ہیں۔یہی حال چاندنی چوک اور بابرپر اسمبلی حلقوں کا ہے، جہاں اچھی خاصی تعداد میں مسلم آبادی رہتی ہے۔بابرپورسے کانگریس کی امیدوار کو 3.59 فیصد اور چاندنی چوک سے کانگریس امیدوار الکالامبا کو 5.03 فیصد ووٹ ملے ہیں۔


Share: